top of page
Sand Dunes

فنِ تاریخ گوئی کی مختصر تاریخ

فنِ تاریخ گوئی ایک صدیوں پرانا فن ہے جس کی ابتدا کی تاریخ کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فن کی ابتدا کا سرا حضرت آدم اور آدمِ ثانی حضرت نوح سے ملتا ہے، جس کی کوئی سند ملنا ممکن نہیں۔ البتہ مورخین کا اس بات پر اتفاق ضرور ہے کہ یہ تایخ گوئی کی ابتدا عربی زبان سے منسوب ہے۔ اگلے وقتوں میں جب اعداد و شمار کو کوئی باقاعدہ طریقہ رائج نہیں تھا تو اہم واقعات مثلا، سنِ پیدائش و وفات یا کسی عمارت کی تکمیل کے سن وغیرہ، کو یاد رکھنے کے لیے کوئی لفظ، ترکیب یا کوئی تحریر بنا لی جاتی تھی۔ جیسے کہ بچوں کے تاریخی نام رکھنے کا رواج بھی عام تھا۔ رفتہ رفتہ یہ فن فارسی اور پھر اردو زبان میں رائج ہونے لگا۔ اوائل میں تو محض نثر میں ہی تاریخ گوئی کی جاتی تھی لیکن اس فن کو عروج اس وقت حاصل ہوا جب شاعری نے اس کا ہاتھ تھاما۔ چونکہ یہ فن ایک مشکل فن شمار کیا جاتا تھا، اس وقت کے شعرائے کرام نے ایک دوسرے پر فوقیت دکھانے اور اپنی مہارت کے اظہار کی خاطر فنِ تاریخ گوئی کو اپنایا اور پروان چڑھایا۔

​

ویسے تو تاریخ گوئی دنیا کی کئی اور زبانوں میں بھی نظر آتی ہے لیکن فارسی اور اردو میں اسے سنجیدگی سے اپنایا گیا اور باقاعدہ ایک صنف کی حیثیت دی گئی۔ باقی اور زبانوں، جیسے کہ انگریزی میں یہ محض تفریحِ طبع کے طور پر استعمال ہوا اور بہت جلد ہی دم توڑ گیا۔

​

برصغیر میں اس فن کو بڑی تقویت ملی اور کئی شعرا نے اس میں طبع آزمائی کی۔ نا صرف شعرا بلکہ کچھ لوگ جو شاعری کی آداب سے نا واقف تھے لیکن تاریخ کہنے میں مہارت رکھتے تھے اور چلتے پھرتے کسی بھی عدد یا اعداد پر کوئی لفظ یا ترکیب بنادیا کرتے تھے۔ لیکن شاعری میں آنے کے بعد ہی اس کی ندرت میں اضافہ ہوا۔

 

فارسی میں اس کی ایک قدیم مثال ملتی ہے کہ فردوسی نے اپنے شاہ نامہ کی تاریخ (۴۰۰ھ) کہی ہے۔

 

ز ہجرت شدہ پنج ہشتاد بار

کہ مین گفتم ایں نامئہ نامدار

 

اور گرشاسب نامہ کی تاریخ اسدی نے ۴۵۸ھ نکالی ہے۔

 

ز ہجرت بدورِ سپہری کہ گشت

شدہ چار صد سال و پنجاہ و ہشت

 

ایرانی شاعر خواجہ کرمانی نے مثنوی "ہمای و ہمایوں" کی تاریخ "بذل" نکالی جس سے ۷۳۲ ہجری برامد ہوتی ہے

 

کنم بذل بر ہر کہ داری ہوی

کہ تاریخ آں نامہ بذل است و بس

 

جیسا کے بالا سطور میں عرض کیا گیا کہ لوگ شاعری کے آداب سے نا واقف ہونے کے باوجود تاریخ کہنے میں مہارت رکھتے تھے، اس کے برعکس ایسے کئی شعرا گزرے ہیں جن کی طبیعت کبھی تاریخ گوئی کی طرف مائل نہیں ہوئی۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ تاریخ کہنے میں عروض و بحر کا خیال رکھتے ہوئے مطلوبہ تاریخ کا برامد کرنا اور مصرع کو بھی با معنی رکھنا، جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ بہرحال تاریخ گوئی ایک مستند فن سمجھا جاتا ہے۔

 

فنِ تاریخ گوئی کا ارتقا ہوا تو یہ محسوس کیا جانے لگا کہ اس قسم کی لغات مرتب کرنا ضروری ہیں جو شعرا کے لیے مادہ تاریخ درامد کرنے میں ممد ثابت ہوں۔ عین  ممکن ہے ایسی کئی کتب تصنیف کی گئی ہوں مگر اب ان میں سے چند نام ہی تاریخ کا حصہ بن سکی ہیں۔ جیسے، "ام التوریخ" ۱۲۸۹ھ میں شائع ہوئی۔ اس کے مؤلف منشی حسین علی فرحت دہلوی تھے۔ "کان تاریخ" ۱۲۸۲ ھ میں منشی رام پرشاد شاہ آبادی نے آگرہ سے شائع کی۔ آئینۂ تاریخ ۱۲۹۳ ھ میں کان پور سے شائع ہوئی۔ اس کے مصنف الہٰی بخش شائق کان پوری ہیں۔ "گلشنِ خیال" کے نام سے تاریخ گوئی کا دستورالعمل ۱۲۹۷ھ میں لکھنؤ سے شائع ہوا، جس کے مصنف مولوی محمد سعید بن مولوی محمد رحیم ہیں۔ ۱۳۱۳ ھ میں فنِ تاریخ سے متعلق دو لغات مرتب کی گئیں۔ یہ دونوں کتابیں حیدرآباد دکن سے شائع ہوئیں۔ پہلی "گلبنِ تاریخ" جو میر مہدی حسن رضوی کی تالیف کردہ ہے اور دوسری "گنجینۂ تاریخ" جس کے مصنف حکیم نادر علی ہیں۔ ۱۳۲۰ھ میں منشی انور

حسین تسلیم سہوانی نے لغت "عدد التاریخ" معروف بہ "زنبیل تاریخ" لکھی۔

 

ویسے تو اس خطے کے کئی شعرا نے فن تاریخ گوئی میں طبع آزمائی کی ہے، ان میں فارسی اور اردو ادب کے جو مشہور و معروف شعرا گزرے ہیں ان میں مرزا غالب، فردوسی، اسدی، داغ دہلوی، میرزا دبیر، امیر مینائی جیسے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماضئ قریب میں جو نامور شعرا، ادیب اور محقیقین نے اس فن کو زندہ رکھا ہے ان میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، شان الحق حقی، اسلم فرخی، راغب مرادآبادی وغیرہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ البتہ دورِ حاضر میں اس فن کا نام اب مٹتا جا رہا ہے۔

 

​

​

​

 حوالہ جات: تاریخ گوئی (کسریٰ منہاس)، علم عروض و قافیہ و تاریخ گوئی (سید حسن کاظمی)، قطعات تاریخ (شان الحق حقی)، فنِ تاریخ گوئی (رتن پنڈوروی)

bottom of page